top of page
Naat Academy Naat Lyrics Naat Channel-Naat-Lyrics-Islamic-Poetry-Naat-Education-Sufism.png

نعت کی خوشبو گھر گھر پھیلے

1326 items found for ""

  • Khwateen Ki Naat Khwani

    آوازِ نسواں کا پردہ بھی ضروری ہے۔ ( خواتین کی نعت خوانی قرآن و حدیث کے آحکام کی روشنی میں) مفتیہ شمیمہ رضویہ فریدی امجدی عائشہ عروہ قادریہ Download PDF ↓ https://t.me/NaatAcademy/1197

  • بابا سید محمد تاج الدین چشتی قادری ناگپوری رحمۃ اللہ علیہ منقبت - فریدی

    یادِ تاج الاولیاء ... تاج دار ولایت ، شہنشاہِ ہفت اقلیم ، حاملِ علم لدنّی، حضرت بابا سید محمد تاج الدین چشتی قادری ناگپوری علیہ الرحمہ کی بارگاہ میں نذرانۂ عقیدت 26 محرم الحرام عرس مبارک ہے عطاؤں کا فلک، تیری زمیں تاج الدیں خم ترے در پہ ہے شاہوں کی جبیں تاج الدیں جوہرِ حکمتِ حیدر ، ترے خوں کی تابش علم و ادراک کے اے دُرِّ ثَمیں تاج الدیں نور تیرا کسی ظلمت سے نہیں چُھپ سکتا حق کا سورج ہے تری ذاتِ مبیں تاج الدیں موت نے خود تجھے پوشاکِ بقا پہنائ واہ اے قلبِِ محبت کے مکیں تاج الدیں جامۂ علم لدُنِّی ہے تن و جاں کا جمال اے ہنرساز ، اے سرمایۂ دیں تاج الدیں سرِ اقدس پہ حسِیں تاج ہے" لا خَوفٌ" کا جسمِ اسلام کے بازوے متیں تاج الدیں رہتے ہیں اہل عقیدت پہ وہ سایے کی طرح غم میں دَم ساز ، مصیبت میں معیں تاج الدیں ہفت اقلیم کے اے شاہ ! کرو ہم پہ نگاہ قلبِ ملت ہے جفاؤں سے حَزیں تاج الدیں قطرۂ آبِ تو دریا ، و گدایَت سلطان ذرۂ خاکِ رَہَت ، چرخ نشیں تاج الدیں ابر و بحرِ رواں ، بَر بخشش و جُودَت حیراں می دہی ہر کسے زَرہاے مَہیں تاج الدیں ایں سعادت بخدا حاصلِ عُمرَم باشد گر خوش آید تُرا ، نذرانۂ ایں تاج الدیں اہلِ ایماں کے دل و جان و جگر کی ٹھنڈک تیری خوشبو ، اے گُلِ صدق و یقیں تاج الدیں تیرے کردار و عمل کی ہے تجلی نایاب تاجِ اعزازِ ولایت کے نگیں تاج الدیں ہر نئ صبح کے اے نیَّرِ نَو ، تجھ کو سلام تا دمِ دہر ، فنا تجھ کو نہیں، تاج الدیں خاک پر بیٹھ کے عالم کی شہنشاہی کی دولتِ فَقر و تصوف کے اَمیں تاج الدیں کیوں نہ ہرایک کرے" تاج" کی نگری کو سلام جلوہ فرما ہیں بصد شان یہیں تاج الدیں ناگپور آپ کے قدموں سے ہوا یوں گلزار خار میں گل کی ہے تاثیرِ حسیں تاج الدیں آپ کی ذات، کرامات و کرم کا مخزن آپ کا در، چمنِ خلدِ بریں تاج الدیں یہ فریدی جو ہے معمورِ دعاے " سَرور " اصل اورنسل سے ہے تیرے قَریں تاج الدیں از محمدسلمان رضا تاجی فریدی صدیقی مصباحی، مدینہ العرفان ، مسقط عمان

  • مدحِ صارفِ احکامِ قضا علیہ السلام

    مظہرِ ذاتِ خدا مبدءِ تاثیرِ ھَبا قبلہ گہِ اَرض و سما ناظرِ الواحِ قضا قاسم و مختارِ عطا نافئ لَا اے شہِ ابرار حجّتِ حرفِ رَفَعْنا سے ہوۓ مَا و شُما عجز سراپا ، تری توصیف و ثنا کا کسی صورت نہیں حق ہوتا ادا ، سکتہ میں ہے جنبشِ گفتار مہرِ ایراد ہوئی ثَبت کُھلے کن کے دَر و بَست عدم بن کے اٹھا ہست یہ تھا یومِ الست ، ایک تحیرّ تھا ہر اِک سَمت ہر اِک روح تھی بے چین کہیں اعلیٰ تھے کہیں پست ، کہیں نیک و بدِ بخت ، کہیں صاحبِ ہوش اور کہیں مست ، مگر تیرے بلیٰ کہنے پہ موقوف سبھی کا ہوا اِقرار رحمتِ خاص وہ فرمائی گئی ، بزم سجائی گئی صورت تری دکھلائی گئی ، تا بہ ابد طاقِ دل و دیدہ میں ٹھہرائی گئی تیری ہی تصویر فرد میثاق کی لائی گئی جو علتِ تخلیق بتائی گئی تو جملۂ آثار و مظاہر تری تصدیق کیے بنتے گئے پرچۂ اَخبار نغمے مولودِ محمّد کے چِھڑے ، کعبے میں بُت اَوندےگرے ، زلزلے ایواں گہِ کسریٰ میں اٹھے ، رنگ کہ ساوہ کے اڑے ، ہوگئے آتش کدے خاموش بحرِ نِعمات بہے ، سبزے اُگے ، دشت کِھلے ، ساز بجے ، تذکرے یوں ہونے لگے ، قصے اناجیل میں تورات میں تھے جس کے پڑھے آگیا وہ قاسم و مختار اللہ اللہ یہ ہدایت یہ اِراءَت یہ اِصالت یہ ِاعانت یہ عنایت ، متلاشئ معارف پہ کھلا عالمِ وحدت کہ مٹا رنگِ کثافت وہ بڑھی شانِ لطافت نہ رہا قضیۂ وہمیّۂ کثرت ، ترے احکام و اطاعت کی بدولت یوں ہر اک فردِ جماعت پہ کھلے غیب کے اَسرار حضرتِ زیدِ سَرافراز ، شناساۓ ہمہ راز ، صور ہاۓ خطوطِ حدِ آغاز کا ایسا وہ نظر باز ، ہوا محرمِ ہر خلیۂ تکوین وجد انداز ، ہوا پیشِ شہِ ازمنہ و حیّزِ کل ناز ، اٹھانے کو حجاباتِ دو عالم ، تو اٹھی ایسے میں آواز کہ رک بندۂ بیدار شک نہیں اس میں ، کہ فرمانِ شہِ جن و بشر ، میری اِس امت کے سبھی اہلِ نظر ظاہر و باطن کے گہر ، ہیں ورثاۓ رُسُلِ عالمِ ایجاد ہیں سبھی معتبر و مشتہر و منتثر و مقتدر و مفتخر و منتصر و منفجر و مؤتمر و حلقۂ اشراف میں سب لائقِ دستار شیشۂ رویتِ مصحف ، تو معرّف ، تو ہے شارح ، ہیں سبھی تیرے مکلّف ، تو مطوّف تو مشرّف تو ہے بے صوت و کَلمِ زاد ہراک جان کا مصرف چشم مازاغ و ادا ناز ، اے مزلف ہے ہر اِک نطقِ مقفیٰ و مردّف تری مدحت کے تاثّر سے مکیّف تری جانب ہے رخ و سجدۂ افکار کہیں حسان کہیں ابنِ رواحہ کہیں عباس کہیں ابن اکوع ابن سریع ابن زہیر اور کہیں نابغہ جعدی کا سخن ہوتا ہے بے تاب کہیں رومی کہیں جامی کہیں عرفی کہیں قدسی کہیں عطار کہیں خسرو و محسن کہیں ہے ذوقِ حسن اور کہیں طرزِ رضا نقشۂ اظہار تو ہے وہ آیۂ تَنزیل کہ جبریل لیے لہجۂ ترتیل ہوا جاتا ہے تحلیل ترے متنِ حقیقت کی ہو تفصیل یہ ممکن ہی نہیں ہے نہ ترے جیسی ہوئی کوئی بھی تشکیل نہ تمثیل نہ ہے ہمسرِ تفضیل ، تجھی پر ہوا اتمامِ دلیلِ خطِ تکمیل اے قبلہ گہِ انوار شانِ لولاک لقب پیکرِ اوصافِ عجب عالی حسب پاک نسب ماہِ عجم مہرِ عرب حسنِ طلب جانِ طرب اے سَبَبِ جملۂ اسباب صاحبِ اوجِ رُتَب ، نطق بہ لب حلقۂ مخلوق یہ سب ، محوِ ادب ، کہتا ہے اب ، جانِ عطب ہوگئی ہے پیشِ غضب ، ہے کرم آپ کا درکار ہم نے اوراقِ زمانہ کو پڑھا اور یہ پایا جو کبھی امتوں پر ٹوٹ پڑے قحط و بلا آتی تھیں نبیوں کی طرف بہر دعا و استمداد تو پھر اے سیدِ اعلیٰ و عُلیٰ صارفِ احکامِ قضا جانِ عطا روحِ سخا شانِ خدا تیرے درِ ناز سے ہم کیسے سنیں جملۂ انکار تو بس اب چشمِ کرم مخزنِ ابحارِ نِعَم صاحبِ ہر جاہ و حشم تیری کریمی کی تجھے آج قسم لے کے نہ خالی پھرے یہ کاسۂ خیرات تو ہے رازیٓ کا بھرم تیرے وسیلے کا بھرے پھرتا ہے دم پشت پناہی پہ تری خامۂ تقدیر یہ کرنے پہ ہے خم دیجیے اجازت اسے سرکار بندۂ لاشئ میرزا امجد رازی

  • درود شریف پڑھنا اور اس کی دعوت دینا

    اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِهِ وَسَلِّمْ درود شریف پڑھنا اور اس کی دعوت دینا ہر کسی کے نصیب میں نہیں ہوتا یہ تو نصیب والوں کا حصّہ ہوتا ہے یہ وہ وظیفہ ہے جس کا حکم خود خالق کائنات نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا ہے۔۔۔ جب آپ درود شریف پڑھنے لگ جائیں گے تو آپ کے سب کام ٹھیک ہو جائیں گے ، مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ کی نظرِ خاص میں آپ لوگ آ جائیں گے جب اللّٰہ اور اللّٰہ کے محبوب مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ کی نظر کرم تم پر ہو گی نا تو دنیا اور آخرت میں تمھارے لیے بھلائی ہی بھلائی ہوگی درود شریف کا جو ورد کرتے ہیں ان کو کسی قسم کے وظائف کی حاجت نہیں رہتی درود شریف نہ صرف وظیفہ ہے بلکہ یہ کامل دعا بھی ہے آپ چاہے جو بھی دورد شریف پڑھیں محبت وعقیدت سے مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ کی بارگاہ میں درود سلام کا نظرانہ پیش کریں آپ کی خطائیں بخش دی جائے گی بلائیں دور ہوگی شفائیں عطا ہوں گی.. ہر قرض میں، ہر مرض میں، ہر دکھ میں، آفات میں مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ پر درود شریف پڑھنے کی عادت بنا لیجئے۔۔ یا ربَّ المصطفٰی ﷺ جتنے بھی لوگ تیرے اور تیرے محبوب ﷺ کی محبت میں درودپاک پڑھنے اور اس کی دعوت دینے میں ہمارے ساتھ شامل ہو جائیں انہیں مصطفیٰ جانِ رحمت ﷺ کا دیدار اور شفاعتِ مصطفیٰ کریم ﷺ نصیب فرما آمین ﷺ بجاہ النبی الامینﷺ پیشکش:نعت اکیڈمی

  • يَا مَنْ صَلَّيْتَ بِكُلِّ الْأَنْبِيَاء

    يَا مَنْ صَلَّيْتَ بِكُلِّ الْأَنْبِيَاء علیہم السلام اے تمام انبیاء کو نماز پڑھانے والے صلی الله علیه وآله وسلم يَا مَنْ فِيْ قَلْبِكَ رَحْمَةٌ لِلنَّاسْ ﷺ اے وہ نبی ﷺ کہ جن کا دل رحمت ہے تمام لوگوں کے لیے يَا مَنْ أَلَّفْتَ قُلُوْبًا بِالْإِسْلَامْ ﷺ اے وہ نبی ﷺ کہ اسلام کے ذریعے سے دلوں کو جوڑنے والے يَا حَبِيْبِي يَا شَفِيْعِي يَا رَسُوْلَ اللهْ ﷺ اے میرے حبیبﷺ ! اے میرے شفیعﷺ ! اے اللہ کے رسول ﷺ بِأُّمِّيْ وَأَبِيْ ... فِدَيْتُكَ سَيِّدِيْ ﷺ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں میرے آقاﷺ صلاةٌ وسلامْ ... عليكَ يا نبيّ درود و سلام ہو آپ پر اے میرے نبی ﷺ حَبِيْبِي يَا... مُحَمَّدْﷺ اے میرے حبیبﷺ اے میرےآقا محمدﷺ أَتَيْتَ بِالسَّلَامِ وَالْهُدىٰ مُحَمَّدْ آپ ﷺ سلامتی لائے ہدایت لائے ﷺ حَبِيْبِي يَا... مُحَمَّدْﷺ يَا رَحْمَةً لِلْعَالَمِيْنَ يَا... مُحَمَّدْﷺ يَا مَنْ حَلَّيْتَ حَيَاتَنَا بِالْإِيْمَانْ ﷺ آپﷺ نے ہمارے زندگیوں کو ایمان سے آراستہ کیا يَا مَنْ بِجَمَالِكَ عَلَّمْتَ الْإِحْسَانْ اے وہ نبی ﷺ کہ آپ نے اپنےحُسن سے ہمیں احسان سکھایا يَا مَنْ نَوَّرْتَ قُلُوْبَنَا بِالْقُرْآنْ اے وہ نبی ﷺ کہ آپ نے ہمارے دلوں کو قرآن سے منور فرمایا! يَا حَبِيْبِي يَا شَفِيْعِي يَا رَسُوْلَ اللهْ ﷺ اے میرے حبیبﷺ ! اے میرے شفیعﷺ ! اے اللہ کے رسول ﷺ بِأُّمِّيْ وَأَبِيْ ... فِدَيْتُكَ سَيِّدِيْ ﷺ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں میرے آقاﷺ صلاةٌ وسلامْ ... عليكَ يا نبيّ درود و سلام ہو آپ پر اے میرے نبی ﷺ حَبِيْبِي يَا... مُحَمَّدْﷺ اے میرے حبیبﷺ اے میرےآقا محمدﷺ أَتَيْتَ بِالسَّلَامِ وَالْهُدىٰ مُحَمَّدْ آپ ﷺ سلامتی لائے ہدایت لائے ﷺ حَبِيْبِي يَا... مُحَمَّدْﷺ يَا رَحْمَةً لِلْعَالَمِيْنَ يَا... مُحَمَّدْﷺ

  • اُن کے آگے وہ حمزہ کی جانبازیاں - تضمین

    سلامِ رضا کا ایک شعر در مدحِ سیّدالشُہَداء، سیّدنا امیر طیبہ امیر حمزہ رضی اللہ عنہ مع قدیم و جدید تضامین فوجِ اعدا میں گُھس کر سناں بازیاں دُور ہی سے کبھی تیر اندازیاں پرچمِ افتخارِ صفِ غازیاں ’’اُن کے آگے وہ حمزہ کی جانبازیاں شیرِ غُرّانِ سَطوَت پہ لاکھوں سلام‘‘ (تضمین از مولانا سید اختؔرالحامدی) دین کے شیر کی معرکہ سازیاں تیر کی بارشیں پھر فرس تازیاں صفِ اعدا پہ وہ تیغ اندازیاں ’’اُن کے آگے وہ حمزہ کی جانبازیاں شیرِ غُرّانِ سَطوَت پہ لاکھوں سلام‘‘ (تضمین از محمد عثمان اوؔج اعظمی) ابنِ اسود پہ وہ تیر اندازیاں گاہے عتبہ پہ انکی سناں بازیاں مرحبا مرحبا وہ سرافرازیاں ’’اُن کے آگے وہ حمزہ کی جانبازیاں شیرِ غُرّانِ سَطوَت پہ لاکھوں سلام‘‘ (تضمین از صاحبزادہ ابوالحسن واحؔد رضوی) یہ تمنا یہ جذبہ یہ قربانیاں اور یہ ذوقِ شہادت کی بے چینیاں کافروں کی یہ میداں میں حیرانیاں ’’اُن کے آگے وہ حمزہ کی جانبازیاں شیرِ غُرّانِ سَطوَت پہ لاکھوں سلام‘‘ (تضمین از ڈاکٹر سید ہلاؔل جعفری) جاں نثارانِ مولا کی جانبازیاں اہلِ بطحا و طیبہ کی جانبازیاں حق پسند اہلِ تقوٰی کی جانبازیاں ’’اُن کے آگے وہ حمزہ کی جانبازیاں شیرِ غُرّانِ سَطوَت پہ لاکھوں سلام‘‘ (تضمین از حافظ عبدالغفّار حافظ) شیرِ حق دین کا ضیغمِ سخت جاں عظمتِ شاہِ کونین کا پاسباں دشمنانِ نبی کا مٹایا نشاں ’’اُن کے آگے وہ حمزہ کی جانبازیاں شیرِ غُرّانِ سَطوَت پہ لاکھوں سلام‘‘ (تضمین از محمد عبدالقیوم طاؔرق سلطان پوری) وہ رضاعی اخِ شاہِ کون ومکاں وہ شجاعت کا لاریب کوہِ گراں وہ شہامت کا ہر رَن میں اونچا نشاں ’’اُن کے آگے وہ حمزہ کی جانبازیاں شیرِ غُرّانِ سَطوَت پہ لاکھوں سلام‘‘ (تضمین از محمد عبدالقیوم طاؔرق سلطان پوری) سرگروہِ شہیدانِ حق بے گماں وہ فلک مرتبت وہ سپہر آستاں شیرِ حق اور شیرِ شہِ انس و جاں ’’اُن کے آگے وہ حمزہ کی جانبازیاں شیرِ غُرّانِ سَطوَت پہ لاکھوں سلام‘‘ (تضمین از محمد عبدالقیوم طاؔرق سلطان پوری) ھیں مقدس احد کی وہ سب گھاٹیاں جن میں عشاق نے دے کے قربانیاں مصطفیٰ سے نبھائیں وَفاداریاں "ان کے آگے وہ حمزہ کی جاں بازیاں شیر غران سطوت پہ لاکھوں سلام" (تضمین از قاضی عبد الدائم ھری پور) تیغ زن جب ہوا لشکرِ غازیاں ہوگئیں ختم باطل کی دَم سازیاں کھل گئے سب کے سب کفر کے ژازیاں "ان کے آگے وہ حمزہ کی جاں بازیاں شیرِ غرّانِ سطوت پہ لاکھوں سلام" (تضمین از بشیر حسین ناظم) وہ رسول الملاحم، ظفر کا نشاں ختم اصحاب پر ان کے، قربانیاں عشقِ محبوبِ حق جن کو تیغ وسناں "ان کے آگے وہ حمزہ کی جاں بازیاں شیرِ غرانِ سطوت پہ لاکھوں سلام" (تضمین از سید حامد یزدانی) فخرِ طبل و علم، قائدِ غازیاں دونوں ہاتھوں سے وہ برق اندازیاں دیکھ کر دنگ ہـے لشکرِ تازیاں "ان کے آگے وہ حمزہ کی جاں بازیاں شیرِ غرانِ سطوت پہ لاکھوں سلام" (تضمین از ڈاکٹر شہزاد مجددی) شاہِ کون و مکاں پر فدا کاریاں ان کے اصحاب کی تیر اندازیاں اللہ اللہ وہ جوشِ صفِ غازیاں "ان کے آگے وہ حمزہ کی جانبازیاں شیرِ غُرّانِ سَطوت پہ لاکھوں سلام" (تضمین از نواز اعظمی) کافروں سے وہ حمزہ کی جانبازیاں کوئی دیکھے وہ حمزہ کی جانبازیاں ہاں نہتے وہ حمزہ کی جانبازیاں "ان کے آگے وہ حمزہ کی جانبازیاں شیرِ غُرّانِ سَطوت پہ لاکھوں سلام" (تضمین از نواز اعظمی) جن کی جرات پہ ششدر ہوا آسماں جن کی ہیبت سے لرزے زمین و زماں جو وقارِ رسالت کے ہیں پاسباں "ان کے آگے وہ حمزہ کی جانبازیاں شیرِ غرّانِ سطوت پہ لاکھوں سلام" (تضمین سید اعجاز شاہ عاجز) اللہ اللہ وہ شمشیر اندازیاں جرأتِ تام کی وہ بِنا سازیاں ذہن سے محو کر نقشِ سود و زیاں ان کے آگے وہ حمزہ کی جانبازیاں شیرِ غرانِ سطوت پہ لاکھوں سلام (تضمین فاضل میسوری) جوشِ ایماں کی تھیں کچھ عجب مستیاں بر سرِ کفر دہشت کی تھیں بدلیاں حوصلہ، عزم و ہمّت، فدا کاریاں "اُن کے آگے وہ حمزہ کی جاں بازیاں شیرِ غرّانِ سطوت پہ لاکھوں سلام" (تضمین از قاری محمد فرقان بزمی، پیلی بھیت) ضیغمِ رب تعالٰی کی جاں بازیاں عمّ سرکارِ بطحا کی جاں بازیاں خسروِ خیلِ شہدا کی جاں بازیاں "اُن کے آگے وہ حمزہ کی جاں بازیاں شیرِ غرّانِ سطوت پہ لاکھوں سلام" (تضمین از قاری محمد فرقان بزمی، پیلی بھیت) ان کے اصحاب ہیں رہنمائے جہاں خاکِ پا جن کی ہـے زینتِ کہکشاں ہر صحابی کی بـے مثل ہـے داستاں "اُن کے آگے وہ حمزہ کی جانبازیاں شیرِ غرّانِ سطوت پہ لاکھوں سلام" (تضمین از ابو المیزاب اویس آبؔ رضوی) دین پر جب کبھی آئیں دُشواریاں شورِ تکبیر سے گونج اُٹھیں وادیاں دیدنی تھیں صحابہ کی تیاریاں "اُن کے آگے وہ حمزہ کی جانبازیاں شیرِ غرّانِ سطوت پہ لاکھوں سلام" (تضمین از ابو المیزاب اویس آبؔ رضوی) جب چلا بہرِ رزمِ اُحد کارواں ولولہ دیکھ کر دنگ تھا آسماں جاں لٹانے کو تیار پِیر و جواں "اُن کے آگے وہ حمزہ کی جانبازیاں شیرِ غرّانِ سطوت پہ لاکھوں سلام" (تضمین از ابو المیزاب اویس آبؔ رضوی) سب نے لکھی ہیں حمزہ پہ تضمیں یہاں شاعروں کا قلم ہے کہ سیل رواں دیدنی ہے اب ان کی قلم کاریاں جوش الفت میں تاباں ہیں خورد کلاں شعر احمد رضا کی ہے خوبی بیاں سب نے ختم سخن کردیا ہے یہاں "ان کے آگے وہ حمزہ کی جانبازیاں شیر غران سطوت پہ لاکھوں سلام" (تضمین از حضرت سید وجاہت رسول تاباں قادری)

  • شانِ حضرت امیر حمزہ رضی اللہ تعالٰی عنہ

    سید الشُہَداء سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ نیکیاں کرنے والے اور مصیبتوں کو دور کرنے والے جب سیدنا امیرحمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوئی تو رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے شدید رنج وملال کااظہار فرمایا اور نہایت غمگین ہوگئے یہاں تک کہ آپ کی چشمان مقدس سے آنسو رواں ہوگئے اور جب حضور پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام نے شہداء احدکی نماز جنازہ پڑھائی تو ہرشہید کی نمازجنازہ کے ساتھ سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کی نمازجنازہ بھی پڑھائی ، اس لحاظ سے آپ کو یہ اعزاز وامتیاز حاصل ہے کہ سترمرتبہ آپ کی نمازجنازہ ادا کی گئی‘ چنانچہ شرح مسند ابو حنیفہ،ذخائر عقبی اور سیرت حلبیہ میں روایت ہے: وعن ابن شاذان من حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ : ما رأینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باکیا قط أشد من بکائہ علی حمزۃ رضی اللہ عنہ ، وضعہ فی القبلۃ ، ثم وقف علی جنازتہ ، وأنحب حتی نشغ، أی شہق ، حتی بلغ بہ لغشی من البکاء یقول : یا حمزۃ یا عم رسول اللہ وأسد رسولہ : یا حمزۃ یا فاعل الخیرات ، یا حمزۃ یا کاشف الکرب ، یا حمزۃ یا ذاب عن وجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، وکان صلی اللہ تعالی علیہ وسلم إذا صلی علی جنازۃ ، کبر علیہا أربعا.وکبر علی حمزۃ سبعین تکبیرۃ ، رواہ البغوی فی معجمہ. ترجمہ:حضرت ابن شاذان رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت بیان کی ہے کہ ہم نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو کبھی اتنا اشک بار نہیں دیکھا جتنا کہ آپ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت پر اشک بار ہوئے،آپ نے انہیں قبلہ کی جانب رکھا ،پھرآپ جنازہ کے سامنے قیام فرماہوئے،آپ اس قدر اشک بار ہوئے کہ سسکیاں بھی لینے لگے ، قریب تھا کہ رنجیدگی کے سبب آپ پر بیہوشی طاری ہوجائے،آپ یہ فرماتے جاتے:اے حمزہ !اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے چچا،اے رسول اکر م صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے شیر!اے حمزہ ! اے نیکیوں کو انجام دینے والے!اے حمزہ ! اے مصیبتوں کو دور کرنے والے!اے حمزہ ! اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی جانب سے دفاع کرنے والے،حضو ر صلی اللہ علیہ والہ وسلم جب نماز جنازہ ادا فرماتے تو چار مرتبہ تکبیر فرماتے اور آپ نے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی ستر(70) مرتبہ تکبیر کے ساتھ نمازِجنازہ ادا فرمائی۔امام بغوی نے اس روایت کو اپنی معجم میں نقل کیا ہے۔ ( شرح مسند أبی حنیفۃ،ج1،ص526۔ ذخائر العقبی۔ ج 1 ، ص : 176۔ السیرۃ الحلبیۃ،ج4،ص153۔سمط النجوم العوالی فی أنباء الأوائل والتوالی، ج1، ص161۔ المواھب اللدنیۃ مع شرح الزرقانی۔)

  • 5th URS Taajush Shariah Mufti Akhtar Raza Khan al-Qadiri

    وارث علوم اعلی حضرت، نبیرۂ حجۃ الاسلام، جانشین مفتئ اعظم عالم اسلام، جگر گوشۂ مفسر اعظم، شیخ الاسلام و المسلمین، حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری برکاتی نوری رضوی قدس سرہ العزیز کا 5واں سالانہ عظیم الشان عرس مبارک، ان شاء الله 5/6/7 ذو القعدۃ الحرام 1444ھ مطابق 26/27 مئی 2023ء حضور قائد ملت، جانشین تاج الشریعہ، مفتی محمد عسجد رضا خان قادری نوری رضوی حفظہ الله تعالی کے زیر سرپرستی مرکز اہلسنت بریلی شریف میں نہایت تزک و احتشام سے منایا جائے گا۔ تمام احباب اہلسنت کو دعوت عام ہے۔ خود بھی شریک ہوں اور احباب کو بھی دعوت دیں۔ نوٹ: عرس شریف کے تمام پروگرامز مفتی عسجد رضا خان کے سوشل میڈیا پیجز پر براہ راست نشر کیے جائیں گے۔ 5th Annual Blessed URS of the Heir of AlaHazrat's Knowledge and Wisdom, Grandson of Hujjat al-Islam, Successor of Mufti-e Azam, Beloved Son of Mufassir-e Azam, Shaykh al-Islam wa al-Muslimeen, Shaykh Taajush Shariah Mufti Muhammad Akhtar Raza Khan al-Qadiri Barakati Noori Ridawi (may Allah sanctify his secrets and elevate his ranks) will be held on 5/6/7 Dhu al-Qa’dah al-Haram 1444 AH, corresponding to 26/27 May 2023, under the supervision of the successor of the Taajush Shariah, Qai’d-e-Millat, Mufti Muhammad Asjad Raza Khan Qadiri Noori (may Allah preserve him) at the Center of Ahl as-Sunnah Bareilly Sharif. The entire Ahl as-Sunnah are cordially invited. Participate yourself and invite your friends as well. Note: All the URS Sharif programs will be broadcasted LIVE on the social media pages of Mufti Asjad Raza Khan Hafidahullah.

  • امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ

    حضرت سیدی ابو عبد اللہ محمد بن اسماعیل امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نام و نسب: اسم گرامی: محمد ۔ کنیت: ابو عبد اللہ ۔ لقب: امام المحدثین، امیر المؤمنین فی الحدیث ۔ سلسلۂ نسب اس طرح ہے: محمد بن اسماعیل بن ابراہیم بن مغیرہ بن بردزبہ بخاری جعفی ۔ آپ کے جد اعلیٰ مغیرہ نے حاکمِ بخارا، یمان جعفی کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا اس لیے آپ کو جعفی کہا جاتا ہے " بخارا " کی نسبت سے بخاری کہا جاتا ہے ۔ تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت 13 شوال المکرم 194ھ، بمطابق 19جولائی 810ء بروز جمعہ بعد نمازِ عصر یا عشاء بخارا میں پیدا ہوئے ۔ تحصیلِ علم: امام بخاری نے "بخارا" میں ابتدائی تعلیم کے بعد صغر سنی میں ہی تحصیلِ حدیث کی جانب متوجہ ہو گئے تھے، اور دس سال کی عمر میں امام داخلی علیہ الرحمہ کے حلقۂ درس میں شریک ہونے لگے اور اپنی خدا داد قوت حفظ و ضبط سے حدیثوں کی اسناد و متون کو ذہن میں محفوظ کرنے لگے ۔ قوت حفظ و ضبط کا یہ عالم تھا کہ 18 سال کی عمر میں آپ نے عبد اللہ بن مبارک علیہ الرحمہ کی تمام کتابیں اور وکیع اور دیگر اصحابِ امامِ اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کی کتابوں کو ازبر کر لیا تھا ۔ اسی عمر میں آپ نے روضۂ انور کے سائے میں بیٹھ کر " التاریخ الکبیر " تصنیف فرمائی ۔ 216ھ میں طلبِ حدیث کے لئے آپ نے مکۃ المکرمہ کی طرف پہلا سفر کیا ۔ اس کے علاوہ طلبِ حدیث کے لئے آپ نے مصر اور شام دو مرتبہ، بصرہ چار مرتبہ اور بے شمار مرتبہ بغداد اور کوفہ کا سفر کیا ۔ آپ نے ایک ہزار سے زائد اساتذہ سے اکتسابِ علم کیا ۔ ایک وقت ایسا آیا کہ آپ امیر المؤمنین فی الحدیث کے منصب پر فائز ہو گئے، اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو اور آپ کی تصنیف " بخاری شریف " امت میں مقبولیتِ عامہ عطاء فرمائی ۔ قوتِ حافظہ: قدرت نے امام بخاری علیہ الرحمہ کو بے مثال ذہانت اورقوت حفظ و ضبط سے سر فراز فرمایا تھا ۔آپ انتہائی بیدار مغز اور روشن دماغ انسان تھے ۔ قرطاس و قلم پر اتنا اعتماد نہیں کرتے تھے جتنا انہیں اپنے لوحِ ذہن پر بھروسہ تھا ۔ حاشد بن اسماعیل عہد بخاری کے زبردست محدث تھے فرماتے ہیں: امام بخاری طلب حدیث کے لیے میرے ہمراہ شیوخ وقت کی خدمت میں آمد و رفت رکھتے تھے لیکن ان کے پاس عام طلبہ کی طرح قلم و دوات اور کاغذ کچھ نہ ہوتا تھا میں نے ان سے کہا جب تم حدیث سن کر تحریر نہیں کرتے تو تمہاری آمد و رفت اور سماع کا کیا فائدہ؟ : یہ سماع تو ہَوا کی مانند ہے جو ایک کان سے داخل ہو کر دوسرے کان سے نکل گیا ـ سولہ دن بعد امام بخاری نے مجھ سے کہا تم لوگوں نے مجھ کو بہت تنگ کر دیا آؤ اب میری یاد داشت کا اپنے نوشتوں سے مقابلہ کرو ۔ اس مدت میں ہم نے پندرہ ہزار حدیثیں لکھیں تھیں امام بخاری نے صحت کے ساتھ سب کو اس طرح سنایا کہ میں اپنی حدیثوں کو ان سے صحیح کرتا تھا ـ امام بخاری خود فرماتے تھے: کہ میں نے اپنی صحیح کا چھ لاکھ احادیث میں سے انتخاب کیا ہے ۔ (تذکرۃ المحدثین ص:196) سیرت و خصائص: امام بخاری علیہ الرحمہ نے جس اخلاص و انہماک کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی احادیث کریمہ کو سینے میں محفوظ کیا تھا اسی طرح انہوں نے اپنی ذات و صفات کو اخلاق نبوی ﷺ کے سانچے میں ڈھال لیا تھا زہد و تقویٰ، عبادت و ریاضت، حسن اخلاق، حق گوئی و حق شناسی میں ممتاز تھے ۔ حلم و مروت کے پیکر تھے ۔ کبھی کسی کو برائی سے یاد نہ کرتے اور برائی کا بدلہ ہمیشہ نیکی سے دیتے ۔ ہر شخص کی عزت نفس کا لحاظ رکھتے آپ بےحد صابر انسان تھے، اور اپنی ذات کا انتقام بِالکل ہی نہ لیتے تھے ۔ آپ بہت ہی متواضع اور منکسر المزاج واقع ہوئے تھے ۔ بڑی سادہ زندگی بسر کرتے اور اپنے کام خود کر لیا کرتے تھے ۔ کسی دوسرے کو زحمت نہ دیتے ۔ آپ کے شاگرد محمد بن حاتم وراق بیان کرتے ہیں: کہ ایک مرتبہ امام بخاری علیہ الرحمہ بخارا کے قریب سرائے بنا رہے تھے اور اپنے ہاتھوں ہی سے دیوار میں اینٹیں لگا رہے تھے میں نے آگے بڑھ کر کہا آپ رہنے دیجیے میں یہ انٹیں لگا دیتا ہوں آپ نے فرمایا قیامت کے دن یہ عمل مجھے نفع دے گا ۔ وراق کہتے ہیں کہ جب ہم امام بخاری علیہ الرحمہ کے ساتھ کسی سفر میں جاتے تو آپ ہم سب کو ایک کمرے میں جمع کر دیا کرتے اور خود علیحدہ رہتے ۔ ایک بار میں نے دیکھا امام بخاری علیہ الرحمہ رات کو پندرہ بیس مرتبہ اٹھے اور ہر مرتبہ اپنے ہاتھ سے آگ جلا کر چراغ روشن کیا کچھ احادیث نکالیں ان پر نشانات لگائے پھر تکیہ پر سر رکھ کر لیٹ گئے ـ میں نے عرض کیا آپ نے رات کو اٹھ کر تنہا مشقت برداشت کی مجھے اٹھا لیتے فرمایا تم جوان ہو اور گہری نیند سوتے ہو میں تمہاری نیند خراب کرنا نہیں چاہتا تھا ۔ (محدثین عظام حیات و خدمات، ص:321) ۔ امراء / مالداروں سے دوری: امام بخاری علیہ الرحمہ نے اپنی علمی دیانت اور وقار کو کبھی مجروح نہ ہونے دیا ۔ اپنی ذات اور ضرورت کے لیے امراء و رؤسا کے دروازوں پر ہر گز نہ گئے ۔ ہمیشہ حکمرانوں اور مالداروں سے دور رہتے تھے ۔ جب گھر جا کر پڑھانے کے لئے کہا: جب حاسدین نے حاکمِ بخارا خالد بن احمد ذہلی سے کہا کہ آپ امام بخاری سے کہیں کہ وہ آپ کے بیٹے کو گھر آکر پڑھایا کریں ۔ حاکمِ بخارا نے اس خواہش کا اظہار کیا تو آپ نے فرمایا میں علم کو سلاطین کے دروازے پر لے جا کر ذلیل کرنا نہیں چاہتا ۔ پڑھنے والے کو میرے درس میں آنا چاہیے ۔ والئ بخارا نے کہا اگر میرا لڑکا درس میں آئے تو وہ عام لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر نہیں پڑھے گا، آپ کو اسے علیحدہ پڑھانا ہوگا ۔ امام بخاری نے جواب دیا میں کسی شخص کو احادیث رسول ﷺ کی سماعت سے نہیں روک سکتا ۔ اس کے بعد آپ کو اپنے وطن سے ہجرت کرنے پر مجبور کر دیا گیا ۔ ایک بار آپ کے مضارب تاجر نے پچیس ہزار لے کر دوسرے ملک میں سکونت اختیار کی امام صاحب سے لوگوں نے کہا کہ مقامی حاکم کا خط لے کر اس علاقہ کے حاکم کے پاس پہنچا دو روپیہ آسانی سے مل جائے گا امام بخاری نے فرمایا: اگر میں نے اپنے روپے کے لئے حکام سے سفارش لکھواؤں تو کل یہ حکام میرے دین میں دخل دیں گے اور میں اپنے دین کو دنیا کے عوض ضائع نہیں کرنا چاہتا ۔ آج کل کے علماء کے لئے اس میں عظیم سبق ہے ۔ امام صاحب کا ادب الحدیث: حدیث شریف کو کتاب میں ذکر کرنے سے پہلےآپ غسل کرتے اور خوشبو لگاتے تھے ۔ اس کے بعد آپ دو رکعت نفل ادا کرتے ۔ پھر اس حدیث کی صحت کے بارے میں استخارہ کرتے اس کے بعد اس حدیث کو اپنی صحیح میں درج کرتے ۔ شیخ عبدالحق محدث دہلوی فرماتے ہیں: کہ امام بخاری علیہ الرحمہ نے ایک مرتبہ مسودہ لکھا ۔ دوسری مرتبہ مبیضہ تیار کیا اور تیسری مرتبہ ہر حدیث کو رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں پیش کرتے اور جس حدیث کے بارے میں بالمشافہ یا خواب کے ذریعے حضور ﷺ سے اجازت مل گئی اور اس کی صحت کا یقین کامل ہو گیا اس کو اپنی صحیح میں درج کر لیا ۔ (الشعۃ اللمعات، ص:10) ۔ وصال: بروز جمعۃ المبارک، یکم شوال المکرم، 250ھ / بمطابق یکم ستمبر 870ء ۔ 61 سال 11ماہ 18 یوم کی عمر پاکر رسول اللہ ﷺ کی احادیث کی خدمت کرتے ہوئے دارِ فنا سے دارِ بقا کی طرف منتقل ہوئے ۔ قبر مبارک: خرتنگ نزد سمرقند موجودہ ازبکستان میں محو آرام ہیں ۔ آپ کی قبر مبارک سے مدتوں ایسی خوشبو آتی رہی جو مشک و عنبر سے بھی عمدہ تھی لوگ قبر کی مٹی تبرکاً لےجاتے رہے ۔ (ھدی الساری، ج:2، ص:266) ۔ آپ کی قبر انور پر دعا قبول ہوتی ہے ۔ (ارشاد الساری، ج:1، ص:39) https://www.facebook.com/photo/?fbid=6032117613523660&set=a.1026436610758477 https://Instagram.com/naatacademy

  • گُلِ نعت چُن رہا ہوں چَمَنِ خیال سے

    گُلِ نعت چُن رہا ہوں چَمَنِ خیال سے !! یہ سعادتِ مسلسل مِلی نیک فال سے !! غمِ ہجر کی اَذِیَّّت بھی سکون بخش ہے یہ نتیجہ مُتَّصِل ہے طلبِ وصال سے !! مجھے سیرتِ صحابہ پہ عمل نصیب ہو کہیں مَیں بھٹک نہ جاؤں رہِ اعتدال سے !! یہ ثنائے مصطفیٰ ہے جو عطائے خاص ہے یہ کہاں نصیب ہوگی ہنر و کمال سے !! مجھے اُن کی نعت گوئی کے لئے چُنا گیا یہ شَرَف عطا ہُوا ہے درِ ذُو الجلال سے !! وہ بُلائیں گے کسی دن تجھے اپنے شہر میں اے سحر تُو منتظِر ہے کئی ماہ و سال سے !! ~سحر بلرام پوری

  • لیلۃ الجائزہ امت مسلمہ کے لیے انعام

    *لیلۃ الجائزہ: امت مسلمہ کے لیے انعام کی رات اور ہمارا طرز عمل* ___ محمد حسین مشاہد رضوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب عیدالفطر کی رات ہوتی ہے تو اس کا نام ا سمانوں پر لیل ۃ الجائزہ (یعنی انعام کی رات) سے لیا جاتا ہے اور جب عیدکی صبح ہوتی ہے تو حق تعالی شانہ فرشتوں کو تمام شہروں میں بھیجتا ہے وہ زمین پر اترکر تمام گلیوں، راستوں کے سروں پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور ایسی ا واز سے جس کو جنات اور انسان کے علاوہ ہرمخلوق سنتی ہے پکارتے ہیں کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت اس کریم رب کی درگاہ کی طرف چلو جو بہت زیادہ عطا فرمانے والاہے اور بڑے سے بڑے قصورکو معاف کرنے والاہے۔ رمضان کی مبارک ساعتوں میں محنت کرنے والوں کو مبارک ہو، رمضان کی راتوں میں قیام کرنے والو، قرآن سننے والو، دن کو روزے رکھنے والو، گناہوں سے بچنے والو، نیکیوں کی دوڑ لگانے والو، اللہ اللہ کی صدائیں لگانے والو خوش ہو جاؤ ! انعام کی رات آگئی ہے. اللہ تبارک تعالی کے مزدوروں کو مزدوری ملنے کا وقت آ گیا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: جب عید الفطر کی رات ہوتی ہے تو اس کا نام (آسمانوں پر) لیل ۃ الجائزہ (انعام کی رات) لیا جاتا ہے اور جب عید کی صبح ہوتی ہے تو حق تعالی شانہ فرشتوں کو تمام شہروں میں بھیجتا ہے. یہ زمین پر اتر کر تمام گلیوں، راستوں کے سروں پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور ایسی آواز سے جس کو جنات اور انسان کے سوا ہر مخلوق سنتی ہے پکارتے ہیں کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت اس رب کریم کی (درگاہ) کی طرف چلو جو بہت زیادہ عطا فرمانے والا ہے اور بڑے سے بڑے قصور کو معاف فرمانے والا ہے. پھر جب لوگ عیدگاہ کی طرف نکلتے ہیں تو حق تعالی شانہ فرشتوں سے دریافت فرما تا ہے: کیا بدلہ ہے اس مزدور کا جو اپنا کام پورا کرچکا ہو، وہ عرض کرتے ہیں ہمارے معبود اور ہمارے مالک اس کا بدلہ یہی ہے کہ اس کی مزدوری پوری پوری دے دی جائے تو اللہ رب العزت ارشاد فرما تا ہے کہ اے فرشتو! میں تمہیں گواہ بناتا ہوں میں نے ان کو رمضان کے روزوں اور تراویح کے بدلہ میں اپنی رضا اور مغفرت عطا کردی اوربندوں سے خطاب فرما کر ارشاد ہوتا ہے کہ اے میرے بندو! مجھ سے مانگو میری عزت کی قسم میرے جلال کی قسم! آج کے دن اپنے اس اجتماع میں مجھ سے اپنی آخرت کے بارے میں جو سوال کرو گے عطا کروں گا. دنیا کے بارے میں جو سوال کرو گے اس میں تمہاری مصلحت پر نظر کروں گا. میری عزت کی قسم کہ جب تک تم میرا خیال رکھو گے میں تمہاری لغزشوں پر ست اری کرتا رہوں گا. (اور ان کو چھپاتا رہوں گا) میری عزت کی قسم اور میرے جلال کی قسم! میں تمہیں مجرموں (اور کافروں) کے سامنے رسوا اور فضیحت نہ کروں گا. بس اب بخشے بخشائے اپنے گھروں کو لوٹ جاؤ. تم نے مجھے راضی کرلیا اور میں تم سے راضی ہوگیا. پس فرشتے اس اجروثواب کو دیکھ کر جو اس امت کو عید کے دن ملتا ہے خوشیاں مناتے ہیں اور کھل جاتے ہیں. (رواہ ابوالشیخ ابن حبان فی کتاب الثواب )۔ لیکن ذرا غور کیجئے! ذرا تصور کیجئے !ایک شخص اپنی پوری زندگی کی پونجی ایک عالیشان مکان اورمحل بنانے پرصرف کردے اور جب خون پسینے کی گاڑھی کمائی سے بننے والا اس کاخوبصورت محل تیار ہوجائے تویکایک وہ شخص اپنے ہی ہاتھوں بنائے ہوئے اس محل کوگرانے پرکمربستہ ہوجائے ... کیا ایسے شخص کو ہوشمندوعاقل سمجھاجائے گا ... کیااسے پاگل اور مجنون نہیں سمجھاجائے گا ... ایک طالب علم سال بھرامتحان کی تیاری کرے 'دن رات کاآرام 'چین نینداورسکون اپنے اوپر حرام کرے 'بالآخر اللہ اللہ کرکے وہ کمر ۂ امتحان میں داخل ہو 'بڑی تندہی 'محنت او ر کامیابی سے وہ اپناپیپرحل کرے لیکن اچانک وہ اپناساراحل شدہ پرچہ پھاڑ کرکمر ۂ امتحان سے باہر نکل آئے اور بلاوجہ، بے لگام اچھلنا کودنا 'ناچناگانا اورہنگامہ کرنا شروع کردے ... ایسے طالب علم کوکیاکہاجائے گا؟ ... کیااسے بے وقوف اور دیوانہ نہیں کہاجائے گا کہ اس نے اپنے سارے سال کی مشقت اور خون جگرکی محنت پریکلخت پانی پھیردیا؟ ... ایک مالی ایک پودے کوشب وروزمحنت سے سینچے 'گرمی 'سردی اور دھوپ سائے کی پرواہ کئے بغیروہ اس پودے کی پرورش کرے اورجب یہ پودا ایک تناور درخت بن جائے اور پھل دینے کے قریب آجائے تو مالی کلہاڑا لے کر اس درخت کوکاٹنے پرتل جائے ... ذرا سوچئے اسے کیاکہاجائے گا! ... کیا دنیا میں ایسے انسانوں 'ایسے طالب علموں اور ایسے مالیوں کا تصورکیاجا سکتا ہے؟ کیاایسے انسا ن دنیامیں موجود ہیں یاموجود ہوسکتے ہیں؟ جی ہاں ! ہمارا تجربہ اورمشاہدہ بتاتاہے کہ دنیامیں ایسے انسان موجودہیں. البتہ یہ کہاجاسکتاہے کہ ایسے انسان دنیامیں بہت کم ہوتے ہیں، شاذونادر ہوتے ہیں، آٹے میں نمک کے برابرہوتے ہیں۔ لیکن یہ کیا یہاں تو معاملہ بالکل الٹا ہے، ایسی مجنونانہ حرکتیں کرنے والوں کی اتنی زیادہ تعداد. ذرا اپنے اردگرد دیکھئے یہ کیاہورہاہے؟ کوئی ہنگامہ برپاہے، کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی، ایک ہجوم ہے، انسانوں کاسمندر ہے، چکاچوند روشنیاں ہیں، آنکھوں کوشرم سے پانی پانی کردینے والے مناظر ہیں، یہ کون ہے؟ حو ا کی بیٹی ہے، اسلام کی بیٹی ہے، مسلمان کی بیٹی ہے. ارے بھئی! ابھی کچھ وقت پہلے ہی کی بات ہے 'یہ شرم وحیاء کی پتلی تھی، ایمان میں سرتاپا ڈوبی تھی، صوم وصلو ۃ کے زیور سے لدی تھی، نظریں شرم سے جھکی تھیں، پردہ و حجاب میں لپٹی اور سمٹی تھی. لیکن آج اسے کیا ہوا. یہ چاند نکلتے ہی اس پر کیا جنون چھا گیا، کیا اس کاایمان ہی رخصت ہوگیا؟ یہ پردہ 'یہ حجاب کہاں گیا؟ آوارہ مردوں کے ہجوم میں اس کا کیاکام، ارے یہ کس کی بہن ہے اس نے توکبھی اپنا ہاتھ کسی غیرمرد کونہ دکھایاتھا اوراب اسے کیاہوا ایک غیرمرد کواپنا ہاتھ پکڑارہی ہے. محض اس لئے کہ اس کے ہاتھوں پرمہندی لگادی جائے. اور ذرا ادھردیکھئے. اسے کیا ہوا؟ محرم مردوں کواپنے بازو نہ دکھانے والی نامحرموں کو اپنے بازوتھمارہی ہے، تاکہ اسے چوڑیاں پہنادی جائیں. اوریہاں مسلمان بہنیں یہ کیاکررہی ہے، بیوٹی پارلر میں گھسی ہے 'اپنے چہرے کوبگاڑ رہی ہے 'فطرت کو مسخ کررہی ہے 'کہیں پلکیں بدل رہی ہیں توکہیں بھنویں، کہیں جسم سے بال اکھڑوانے کے لئے تھریڈنگ ہورہی ہے توکہیں فشل اور ماسکنگ اورکہیں مصنوعی ناخن لگ رہے ہیں، کیا یوں اللہ کے دئیے ہوئے قدرتی اورحسین چہرے اور جسم کوپسندنہ کرنے والی اللہ کی رحمت کی مستحق ہوسکتی ہے؟ کیا انہیں اللہ کے نبی کایہ انتباہ بھول گیاہے ... جس میں آپ نے فرمایاتھا ... ' اللہ تعالی نے لعنت کی ان عورتوں پر جومردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہیں اوران مردوں پرجوعورتوں کی مشابہت اختیار کرتے ہیں اور جوجسم گودتی اور گدواتی ہیں اورجواپنے حسن میں اضافہ کے لئے اپنے دانتوں میں خلا پیدا کرتی ہیں اور اپنی بھنووں اور پلکوں کوکترواتی ہیں اورجواپنے بالوں کے ساتھ نقلی بال لگواتی یااضافہ کرتی ہیں 'وہ اللہ کی تخلیق میں تبدیلی کرتی ہیں. اورہاں! ذرا ان مسلمان نوجوانوں کو بھی دیکھئے! مہینہ بھر صوم وصلو ۃ کے پابندرہنے والے، پانچوں وقت مسجدوں کو آباد کرنے والے، ایک ماہ میں کئی کئی قرآن ختم کرنے والے، اعتکاف کے کرنے والے، چاند رات آتے ہی یوں شتر بے مہار ہوگئے جیسے ایمان ان کوچھوکر بھی نہیں گیاتھا، کہیں عورتوں پر ٹکٹکیاں لگائی ہوئی ہیں توکہیں ان پر آوازے کس رہے ہیں، کہیں شیطان کی آواز، موسیقی کی دھنوں پر بڑے بڑے ڈیک لگاکر ناچ کودرہے ہیں 'شریفوں اور مریضوں کا جینا دوبھر کیے ہوئے، توکہیں فلموں اور ڈراموں میں مست ہیں، کہیں سگریٹوں کے مرغولے بنارہے ہیں، توکہیں شراب کے جام لٹائے جارہے ہیں. کہیں ون ویلنگ کے کرتب دکھاکراپنی جوانیوں کو موت کالقمہ بنارہے ہیں. اور یہ فحش عید کارڈوں کے اسٹالوں پر کون کھڑا ہے؟ اسلام کی بیٹیاں بھی اور بیٹے بھی. کیا یہ سب اپنی محنتوں کو اپنے ہاتھوں برباد کرنے کے مترادف نہیں؟ کیا یہ جنونیت اور حماقت نہیں؟ خدارا کچھ سوچیں! ہم رمضان میں بنی ہوئی ایمان کی یہ عمارت عید کی ایک ہی رات میں کیوں زمین بوس کرنا چاہتے ہیں؟ اس کے برعکس ہمارے اکابر اور بزرگوں کا طرز عمل تو یہ تھا :حضرت عامر ابن قیس کے بارے میں مروی ہیکہ وہ اختتام رمضان پر رونے لگے، تو لوگوں نے کہا آپ کیوں رورہے ہیں؟ تو فرمایا قسم بخدا متاع دنیا کے ضائع ہونے پر نہیں رورہا ہوں، میں تو روزے میں پیاس کی شدت پر اور ٹھنڈی رات میں اللہ کے حضور میں کھڑے ہونے کی مشقت کے ہاتھوں سے چلے جانے پر رورہا ہوں، یعنی روزہ تراویح اور دیگر رمضانی عبادت اب نہ ہونے کا افسوس ہے. حضرت علی کرم اللہ وجہہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں مروی ہے کہ جب رمضان المبارک کی آخری رات ہوتی تو آپ فرماتے، ہائے کاش مجھے معلوم ہوجائے کہ کون ہے وہ شخص جس کی رمضان المبارک میں عبادتیں قبول ہوگئی، تو میں انہیں مبارک باد دیتا، اور اگر مجھے معلوم ہوجائے کہ کون ہے، جس کی عبادتیں قبول نہ ہو سکی اور وہ محروم رہا تو ہم اس کی تعزیت کرتے. ایک بزرگ کو عید کے دن لوگوں نے غم زدہ دیکھا تو لوگوں نے کہا کہ خوشی اور مسرت کے دن آپ غم زدہ کیوں نظر آرہے ہیں؟ تو فرمایا، بات تو صحیح ہے کہ یہ خوشی اور مسرت کا دن ہے، مگر مجھے اس بات نے غم میں ڈال رکھا ہے کہ میں اللہ کا بندہ ہو ں جس نے مجھے روزے اور دیگر عبادات کا حکم دیا، مگر مجھے نہیں علم کے میرے یہ اعمال عنداللہ مقبول بھی ہوئے یا نہیں؟ بشر حافی رحم ۃ اللہ سے کسی نے دریافت کیا، کہ حضرت بہت سے مسلمان ایسے دیکھے گئے، جوصرف رمضان المبار ک میں خوب عبادت اور مجاہدہ کرتے ہیں اور بقیہ سال بھر پھر کچھ نہیں، تو آپ نے فرمایا، ایسااس لئے کہ انہوں نے اللہ کو کماحقہ نہیں پہچانا، اور عارضی صرف رمضان المبارک کی حد تک کی عبادت کس کام کی؟ اصل عبادت اور حقیقی صلاح وتقوی تو یہ ہے کہ مسلمان سال بھر عبادت وریاضت ومجاہدہ ومحاسبہ میں لگارہے. لہذا ہمیں چاہیے کہ انعام کی اس رات کو اس طرح گزاریں کہ انعام دینے والا ہم سے خوش ہو.ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ جو شخص پانچ راتوں میں (عبادت کیلئے) جاگے. اس کے واسطے جنت واجب ہوجائے گی. لیل ۃ التزویہ (آٹھ ذی الحجہ کی رات ) ، لیل ۃ العرفہ (9 ذی الحجہ کی رات)، لیل ۃ النحر (01 ذی الحجہ کی رات)، شب برأت (پندرہ شعبان المعظم کی رات)، عید الفطر کی رات. اس کے علاوہ ہمارا طرز عمل رمضان کے بعد بھی وہی ہونا چاہیے جو رمضان میں تھا. جس طرح ہم نے پانچوں نمازوں کا اہتمام کیا ہم یہ عہد کریں یہ نیت کریں، اب انشاء اللہ رمضان کے بعد بھی ہم اس کا پورا اہتمام کرینگے، جیسا کہ رمضان میں اہتمام کیا. جس طرح رمضان المبارک میں آپ نے گناہوں سے اجتناب کیا یا کم از کم کوشش کی رمضان کے بعد بھی وہی اہتمام باقی رکھیں. جس طرح رمضان المبارک میں تراویح اور تہجد کا اہتمام کیا اسی طرح رمضان کے بعد بھی تہجد، چاشت اور اشراق کا اہتمام کیا جائے، اور اپنے آپ کو اسی کا عادی بنایاجائے تاکہ بے شمار فضائل واجر عظیم سے مالا مال ہو سکیں. جب رمضان المبارک میں ہم نے تلاوت قرآن کا اہتمام کیا ہے اور کئی ایک قرآن ختم کیا ہے، رمضان کے بعد بھی اہتمام کے ساتھ قرآن کی تلاوت کرتے رہیں. جس طرح رمضان میں زکو ۃ و صدقات ادا کرنے کا اہتمام کیا، رمضان کے بعد بھی اس کا پورا اہتمام کریں. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اگر آپ کا کوئی معمول رمضان المبارک میں کرنے رہ جاتا تو آپ شوال میں اس کی قضا کرلیتے تھے؛ مثلا: ایک مرتبہ کسی وجہ سے رمضان کے عشرہ اخیرہ میں اعتکاف نہ کرسکے تو کسی مجبوری کی وجہ سے نو شوال میں اس کی قضا کی بل کہ شعبان میں چھوٹے ہوئے عمل کی قضابھی شوال ہی میں کرنے کی فرماتے (بخاری ومسلم )اسی طرح حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا فرمایا کرتی تھیں کہ رمضان کے قضا روزے کی قضا بھی شوال میں شوال کے روزے رکھنے سے پہلے کرلیں.اللہ تعالی ہم سب کو اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے اور اپنی رضا اور خصوصی انعامات سے نوازے. (آمین )(بیہقی فی شعب الایمان: 3540، عن ابن عباس رضی اللہ عنہ )اللہ کریم ہمیں عمل کی توفیق بخشے! آمین !! ................

  • عرش کی عقل دنگ ہے چرخ میں آسمان ہے

    عرش کی عقل دنگ ہے چرخ میں آسمان ہے جانِ مُراد اب کدھر ہائے تِرا مکان ہے بزمِ ثنائے زُلف میں میری عروسِ فکر کو ساری بہارِ ہشت خلد چھوٹا سا عِطر دان ہے عرش پہ جا کے مرغِ عقل تھک کے گِراغش آگیا اور ابھی منزلوں پَرے پہلا ہی آستان ہے عرش پہ تازہ چھیڑ چھاڑ فرش میں طرفہ دُھوم دَھام کان جِدھر لگائیے تیری ہی داستان ہے اِک ترے رُخ کی روشنی چین ہے دو جَہان کی اِنس کا اُنس اُسی سے ہے جان کی وہ ہی جان ہے وہ جو نہ تھے تو کچھ نہ تھا وہ جو نہ ہوں تو کچھ نہ ہو جان ہیں وہ جہان کی جان ہے تو جہان ہے گود میں عالمِ شباب حالِ شباب کچھ نہ پوچھ! گلبنِ باغِ نور کی اور ہی کچھ اُٹھان ہے تجھ سا سِیاہ کار کون اُن سا شفیع ہے کہاں پھر وہ تجھی کو بُھول جائیں دِل یہ تِرا گمان ہے پیشِ نظر وہ نو بہار سجدے کو دِل ہے بے قرار روکیے سر کو روکیے ہاں یہی امتحان ہے شانِ خدا نہ ساتھ دے اُن کے خرام کا وہ باز سدرہ سے تا زمیں جسے نرم سی اِک اُڑان ہے بارِ جلال اُٹھا لیا گرچہ کلیجا شق ہُوا یُوں تو یہ ماہِ سبزہ رنگ نظروں میں دھان پان ہے خوف نہ رکھ رضاؔ ذرا تو تو ہے عَبدِ مصطفٰی تیرے لئے اَمان ہے تیرے لئے اَمان ہے اعلی حضرت

bottom of page