top of page

نعت کی خوشبو گھر گھر پھیلے

Naat Academy Naat Lyrics Naat Channel-Naat-Lyrics-Islamic-Poetry-Naat-Education-Sufism.png

مولانا عبدالرحمٰن جامی اور عشق رسول

حضرت مولانا عبدالرحمٰن جامی رحمتہ اللّه علیہ ( متوفی ۸۹۸ھ) تصوف اور عشق رسول اللہ ﷺ میں بہت مقام رکھتے ہیں ان کی شاعری میں ان کایہ عشق صاف دکھائی دیتا ہے۔

نسیما جانب بطحا گزر کن ز احوالم محمدﷺ را خبر کن

ترجمہ : ( اے نسیم بہاری تو بطحا کی جانب گزر کر اور میرے محبوب محمدﷺ کو میرے احوال سے آگاہ کر)

انہوں نے اپنی زندگی دین کی خدمت اور خلقِ خدا کی منفعت کے لئے وقف کر رکھی تھی۔۸۶۷ھ میں ان کو خیال پیدا ہوا کہ جامی تم نے پچاس سال کی زندگی محبوب کے کوچہ سے دور رہ کر گزار دی اس خیال کا آنا تھا کہ عشق رسول اللہ ﷺ کا غلبہ اور تیز ہو گیا ذوق و شوق انتہا کو پہنچا تو سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر کوئے دوست کی طرف روانہ ہولئے۔ اس زمانے میں سفر حج بڑے خطروں سے بھرا ہوتا تھا یہ بغیر کچھ پرواہ کئے چند رفیقوں کے ساتھ خراسان سے روانہ ہوگئے۔ وہاں سے سبزوار، بسطام ،سمنان ، قزوین، ہمدان ہوتے ہوئے بغداد پہنچے۔ چند دن بغداد میںقیام کرنا پڑا۔ لیکن ایک ایک لمحہ رسول اللہ ﷺ کے شوق و اشتیاق میں بے چینی سے کٹا ایک دن دجلہ کے کنارے بیٹھے ہوئے اس ذوق و شوق کا اظہار اس طرح کرنے لگے۔

بر کنار دجلہ ام افتادہ دور از خانماں دزد ودیدہ دجلہ خوں در کنارِ من رواں

پابروں کے کردمے برخاک بغداد ازرکاب گرنہ پیچیدے ہوائے یثربم ایں سو عناں

ترجمہ : (میں گھر سے دور دریائے دجلہ کے کنارے آپڑا ہوں اور میری دونوں آنکھوں سے خون کا دجلہ بہہ رہا ہے۔ میں بغداد کی زمین پر اپنی رکاب سے پائوں کیوں نکالتا اگر یثرب( مدینہ سے آنے والی ہوانے میری سواری کی لگام اس سمت نہ موڑ دی ہوتی) اس کے بعد ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور کوچۂ محبوب کی طرف روانہ ہو گئے مدینہ منورہ کا سفر اختیار کرنے میں ان کے ذوق وشوق کا اظہار ان اشعار سے ہوتا ہے جو انہوں نے بغداد سے روانگی کے وقت تحریر فرمائے۔

محملِ رحلت بہ بند اے سارباں کز شوقِ یار میکشد ہر دم بردیم قطر ہائے خوں قطار

زود تر آہنگ رہ کن کار زوئے او مرا بردہ است ازسینہ صبردیدہ خواب ازدل قرار

ترجمہ : (اے سارباں! تو محبوبﷺ کے کوچہ کے لئے محمل کس لے، کیونکہ میری آنکھوں سے (محبوب کی فرقت میں) میرے چہرے پر خون کی قطاریں بہہ رہی ہیں، جلدی سفر تیز کرنے کا گیت( ہدیٰ) شروع کر کیونکہ ( رسول اللہﷺ کے دیدار کی) اس قدر شدت ہے کہ میرا سینہ صبر سے میری آنکھیں نیند سے اور میرادل قرار سے محروم ہے)

دو مہینے کی دشوار گزار مسافت طے کر کے یہ اس مقام پر پہنچ گئے جس کے نظارے کا اشتیاق برسوں سے دل میں لئے پھرتے تھے، جس کے دیکھنے کے لئے آنکھیں منتظر اور دل بیتاب تھا، مدینۃ الرسول اب نظروں کے سامنے تھا۔ روضۂ اطہر کی زیارت سے جو سوز و گداز کی کیفیت ان کے دل پر طاری ہوئی اس کا اندازہ ان اشعار سے ہوتا ہے۔

یا شفیع المذنبیں بار گناہ آوردہ ام بر درت ایں بارہا پشتِ دوتاہ آوردہ ام

چشم رحمت برکشا موئے سفید من نگر گرچہ از شرمندگی روئے سیاہ آوردہ ام

عجز و بے خویشی و دورویشی و درد ایں ہمہ بر دعوی عشقت گواہ آوردہ ام

ترجمہ : (اے گنہگاروں کے شفاعت فرمانے والے!میں گناہوں کا بوجھ لے کر آیا ہوں۔ آپﷺ کے در پر حاضر ہوا ہوں( گناہوں کے) اس بوجھ سے میری کمر دوہری ہو گئی ہے۔ اپنی رحمت کی آنکھ کھولئے اور میرے ان سفید بالوں کو دیکھئے اگرچہ میں شرمندگی سے کالا منہ لے کر آیا ہوں میر آپ کے لئے جو عشق کا دعویٰ ہے اس کے گواہ کے طور پر عشق، درویشی اور دردودرود کولے کر حا ضر ہوا ہوں۔

پھر فرمایا یارسول اللہ! نمی گویم کہ مہمانِ تو ام یا فقیر طعمہ جواز ریزئہ خوانِ تو ام

بہ لب افتادہ زباں گرگیں سگے ام تشنہ جاں آرزومند نمے از بحر احسانِ تو ام

گرنہ دارم افسر شاہی بسر ایں بسکہ ہست گردن تسیلم زیرِ طوقِ فرمانِ تو ام

ترجمہ : (یارسول اللہ ! میں یہ نہیں کہتا کہ میں آپﷺ کا مہمان ہوںیا آپﷺ کے دسترخوان سے گرے ہوئے لقمہ کا خواستگار ہوں۔ میں تو اس کتے کی طرح ہوں جو پیاس سے زبان نکالے ہانپ رہا ہے، میں آپﷺ کے احسان کے سمندر سے ذراسی نمی کا آرزومند ہوں، میرے سرپر شاہی تاج نہ سہی میری گردنِ تسیلم میں آپﷺ کی غلامی کا طوق میرے لئے کافی ہے)

یہ سچا عاشقِ رسول ﷺ جب مدینہ کی گلیوں کا نظارہ کرتا ہے تو چپہ چپہ پر جمال رسول اللہ ﷺ کا نظارہ کرتا ہے، مدینہ کا ایک ایک سنگریزہ اس کو لعل و جواہرسے زیادہ قیمتی لگتا ہے۔ یہاں کے ہر درودیوار کو چومتا ہے، گلی کوچوں کی خاک آنکھوں میں لگاتا ہے اور کہتا ہے:

ایں زمینے ست کہ سرمنزل جاناں بودہ است مطرح نورِ رخِ آں مہ تاباں بودہ است

ایں زمینے ست کہ ہر شیب و فراز ے دروست جائے آمد شدِ آں سر و خراماں بودہ است

دامنِ نازکشاں رفتہ بہر جانب ازو آنکہ صدوستِ تمناش بداماں بودہ است

جان جامی بہ حقیقت زہمیں آب وہوا ست گوبہ صورتِ گلشن ازخاک خراساں بودہ است

ترجمہ : (یہ وہ زمین ہے جو میرے محبوب ﷺ کی منزل، یہ اس چاند کے چہرے کے نور سے منور ہے ۔یہ وہ سرزمین ہے جہاں کا ہر نشیب و فراز اس محبوب ِ سر وقد کے آنے جانے کی جگہ رہا ہے۔ آپ کے سب جانب سے لوگ آپ کے دامن کو پکڑتے ہیں۔ کہ آپﷺ وہ سخی ہیں کہ سیکڑوں آرزومندوں کے ہاتھ آپﷺ کے دامن سے بندھے ہیں۔ جامی کی جان اسی ( سرزمین مدینہ کی) آب وہوا میں لگی ہے حالانکہ وہ پیدا خراسان کی سرزمین میں ہوا ہے)

روضۂ اقدس پر کھڑے ہو کر یہ عاشق رسولﷺ سلام و نیاز کے بعد اس طرح ملتجی ہوتا ہے:

ز مہجوری برآمد جان عالم ترحم یا نبی اللہ ترحم

(آپﷺ کی فرقت میں دنیا کی جان لبوں پر آگئی رحم فرمائیے یارسول اللہ! رحم فرمائیے)

نہ آخر رحمۃ للعالمینی ز محروماں چرا فارغ نشینی

کیا آپﷺ سارے عالم کے لئے رحمت نہیں ہیں؟پھر محروموں سے یہ بے اعتنائی کیوں ہے؟)

بروں آور سر از برد یمانی کہ رومی تست صبحِ زندگانی

(یمنی چادر سرسے ہٹا کر اپنا جمال دکھائیے کیونکہ آپ ﷺ کا چہرہ ہی زندگانی کی صبح ہے)

شبِ اندوہ مارا روز گرداں ز رویت روز ما فیروز گرداں (ہماری شب ِ غم کودن میں تبدیل کردیجئے،اپنے جلوے سے زندگانی کو کامرانی عطافرمائیے)

بہ تن در پوش عنبر بوئے جامہ بہ سر بربند کافوری عمامہ

(ہماری چارہ سازی کو آنے کے لئے) معنبر لباس پہن لیجئے اور سراقدس پر کافوری عمامہ کو جگہ دیجئے)

ادیم طائفی نعلین پا کن شراک از شتۂ جانہائے ما کن

(طائف کے ادیم کی بنی ہوئی نعلین پہن لیجئے، اس کے تسموں کی جگہ ہمارے رشتۂ جاں کو کام میں لائیے)

فرود آویز از سر گیسواں را فگن سایہ بہ پا سرو رواں را

(سراقدس سے دونوں طرف معنبر گیسو لٹکا لیجئے اور اپنے مناسب قد کا سایہ اپنے قدموں پر ڈالئے، یعنی ہماری مدد کو چلے آئیے)

جہانے دیدہ کردہ فرش راہند چو فرش اقبال پا بوس تو خواہند

(یارسول اللہ! ایک جہان آپ کی راہ میں آنکھیں بچھائے فرش کی طرح آپ کی قدم بوسی کے شرف کا مشتاق ہے)

ز حجرہ پائے در صحن حرم نِہ بہ فرق خاک رہ بوساں قدم نِہ

(حجرے سے نکل کر حرم نبوی کے صحن میں تشریف لائیے اور خاکِ راہ چومنے والوں کے سرپر قدم رکھیے)

اگرچہ غرق دریائے گناہیم فتادہ خشک لب برخاک راہیم

(اگرچہ ہم گناہوں کے دریا میں ڈوبے ہوئے ہیں پھر بھی ( آپ ﷺ کی) راہ میں پیاسے پڑے ہوئے ہیں)

تو ابرِ رحمتی آں بہ کہ گاہے کنی برحال لب خشکاں نگاہے

( آپﷺ ابررحمت ہیں کیا خوب ہو کہ کبھی ہم تشنہ لبوں کے حال پر بھی نظرفرمائیں)

بہ حسن اہتمامت کار جامی طفیل دیگراں باید تمامی

( کیا عجب کہ آپﷺ کی نگاہِ کرم سے دوسروں کے طفیل میں جامی کا کام بھی بن جائے۔)

? اللهم صل على سيدنا محمد النبي الأمي وعلى آلہ وازواجہ واھل بیتہ واصحٰبہ وبارك وسلم اللھم ربّنا آمین ?

حوالہ (ماخوذحیات جامیؔ، مثنوی یوسف وزلیخا، جامیؔ) ???? ????ℯ?? ________________________________ ᴀᴅᴍɪɴ – https://www.facebook.com/OwaisRazvi

Academy Group Only Writer & Poets https://www.facebook.com/groups/NaatAcademyIndia/

????? ???? ????? ?www.NaatAcademy.com

#OwaisRazvi #OfficialNetwork #NaatAcademy #NaatEducation #NaatAcademyIndia #NaatDiary #NaatWrites #NaatWriters #IslamicPoetryWriters #NewNaat2020 ‎#نعتِ_رسول_مقبولﷺ ‎#نعت_اکیڈمی ‎#صلى_الله_عليه_وسلم ‎#درودشریف ‎#درودوسلام

52 views

Recent Posts

See All
bottom of page